احوال نوید رزاق بٹ سے ملاقات کا
ایک تحریر جو خاکوں کی نظر ہو گئی تھی پیش خدمت ہے. ویسے تو پوری دنیا اور خصوصی طور پہ پاکستان میں یہ ریت ہے کہ جب ایک خاندان کا فرد اسی خاندان کے کسی فرد سے ملنے جاتا ہے تو کوئی نہ کوئی میزبان کو کہ دیتا ہے کہ خیال رکھنا یا یہ کہنے والے بھی کم نہیں ہوتے کہ دھیان رکھنا بندہ ٹھیک نہیں ایویں گلاں کرے گا. ایسی کسی بھی سوچ سے آزاد نوید رزاق بٹ سے ملاقات قسمت میں تھی تو کچھ حالات بھی ایسے بنتے گئے. میں جمعے کو کوپن ہیگن پہنچا تو ایک بہت مصروف اور تھکا دینے والا دن میرا منتظر تھا.۔
ایک ہفتہ آفس میں گزارنے کے بعد اور میٹنگ ڈر میٹنگ کرنے کے بعد سارا دن بسوں میں گھومتے گزارا جہاں ہر مسافر مشکوک ہو رہا تھا کہ یہ بندہ اندر آتے ہی سکرینوں کو دیکھنا شروع کر دیتا ہے اور نوٹس لیتا ہے. اس دوران ایک انتہائی مرچ مصالحے والا ڈونر کباب کھایا اور سی سی کرتے پھر بسوں کا سفر شروع کیا جن میں سافٹ ویئر کو ٹیسٹ کرنا مقصود تھا جس پہ اس گروپ میں، نعمان اور خرم کام کرتے ہیں.۔
وہاں سے اتنی تھکن ہو گئی کہ میں نے ہفتے والے دن کا پروگرام کینسل کر دیا اور کلائنٹ سے کھا کہ میں تو ریسٹ کروں گا آپ لوگ چیک کرو مزید. اگرچہ نوید سے طے شدہ وقت ہفتے والے دن کا تھا لیکن بھابھی پہلے ہی اپنے پرنٹس کے گھر جا چکی تھیں اور میدان بلکل صاف تھا وہیں ایک پرانے کولیگ سے ملاقات ہو گئی اور اس نے کھانے پہ کھانا کھلانے کا ظلم کر ڈالا جو میری زندگی میں پہلی بار ہوا خیر تھوڑا کھا کے باقی نہ کھا کے کافی پی اور اس دوست کے ساتھ گپ شپ میں کافی وقت گزر گیا. رات کو قریب نو بجے میں نے سویڈن جانے کے لیے ٹرین پکڑی اور نوید کو بھی انفارم کر دیا. جب سٹیشن پہ اترا تو ایک نوید نما بندے نے ہاتھ کا اشارہ کیا اس کے باوجود کہ ان ملکوں میں مرد کا مرد کو اشارہ کوئی اتنا چنگا سگنل نہیں ہوتا. آس پاس کے مشکوک لوگوں کو نظر انداز کرتے ہوے نوید کی احتیاط کے باوجود جپھی ڈالی.۔
میں ذرا ہشاش بشاش اور نوید ذرا باختہ حواس سٹیشن سے باہر کی طرف چل دیے. وہاں نوید کے دوست عدیل بھی موجود تھے اور ان کے ساتھ ہم لوگ نوید کے گھر کی طرف رواں دواں ہو گئے.۔
گھر پہنچتے ہی نوید کے دوستوں کے ساتھ ملاقات ہوئی جو گیم کھیلنے میں مصروف تھے اور اتنے اچھے طریقے سے ملے کہ کچھ لمحوں کے بعد محسوس ہی نہیں ہو رہا تھا کہ میں ان لوگوں سے پہلی بار مل رہا ہوں. کچھ گھنٹے گیم کھیلنے کے بعد جب رات کو بارہ بجے کے بعد ان کے دوست رخصت ہوے تو ارد گرد تھوڑا غور کیا. نوید کا گھر بہت سلیقے سے بکھرا ہوا تھا جو کے دوستوں کی دعوت (جو کہ نوید نے بتایا کہ ہر ویکینڈ پے یہ دوست کسی ایک دوست کے ہاں اکٹھے ہوتے ہیں اور خواتین کسی الگ جگہ اور اپنی اپنی جگہ کوکنگ کر کے مزہ کرتے ہیں) کے نتیجے میں خالصتا چھڑا ماحول پیش کر رہا تھا. خیر کچھ دیر گپ شپ کر کے سو گئے اور نوید کا مشکور ہوں کہ انہوں نے میرے آرام کی خاطر اپنا بیڈروم مجھے دے دیا (خود باہر ہی سوے تھے، یہ بتانا بھی ضروری ہے ). بہت اچھی نیند کے بعد صبح اٹھے اور میں حیران ہوا کہ کیسے اتنی خاموشی سے نوید بہت سے کام نبٹا چکے تھے. ناشتہ کرنے کے بعد ہم نے سارا دن واک کرتے گزارا جس میں اس سٹی اور مالمو سٹی کا تفصیلی دورہ کیا اور بہت سی جگہیں دیکھیں جن میں نوید کی یونیورسٹی، ان کا آفس اور بوٹانک گارڈن بھی شامل تھا جس میں ایک شاعر کی قبر بھی دیکھی خوب تھک کے گھر پہنچے اور رات تک گپ شپ چلتی رہی اور ایک دفع پھر نیند کی وادیوں میں گم. لیکن ٹھہریں ابھی کہاں، ابھی تو رات کا کھانا باقی تھا سو ہم ایک مشھور حلال ریسٹورینٹ میں کھانا کھایا، اس سے یاد آیا کہ دن میں لنچ ہم نے کچھ پاکستانی سٹوڈنٹس کے بناے ہوے اس شہر کے ان تین سپاٹس میں سے، جہاں حلال کھانا ملتا ہے، ایک جس کا نام انھوں نے پنجابی رکھا ہوا ہے کھایا. ڈنر کرتے ہوے ہمیں یاد آیا کہ آج تو یورپ کا سونگ کمپیٹیشن ہے تو وہیں ریسٹورینٹ میں بیٹھ کے ہم نے سب کے سونگ سنے ٹی وی پہ اور اپنے اپنے ووٹ آپس میں بتاتے رہے لیکن جو جیتا/جیتی ہمیں پسند نہیں آیا بلکل بھی کیونکہ وہ ساحر لودھی کی/کا بہن/بھائی تھی/تھا سمجھ تو آپ گئے ہی ہوں گے.
بہت سی گپ شپ ہوئی، میں تو ہوں ہی نکما لیکن نوید کی پی ایچ ڈی اور ان کی موجودہ اور مستقبل کی تحقیق ماشا الله بہت زبردست جا رہی ہے. خوشی ہوئی جان کے کہ ان سمیت بہت سے پاکستانی اچھی یونیورسٹیز اور کمپنیز میں اپنی خدمات دے رہے ہیں. نوید بٹ ہونے کے باوجود بہت نپا تلا کھاتے ہیں، میٹھا کم لیتے ہیں لیکن سالہا سال سے چائے میں چینی نہیں پیتے. بڑی شدت سے پاکستان واپس آنا چاہتے ہیں، بہت اچھی نیچر کے بندے ہیں اور ان کی پوری فیملے ماشا الله بہت زبردست تعارف رکھتی ہے. ان کا ادب سے تعلق تو کسی تعارف کا محتاج نہیں اور ماشا الله بہت ہی زرخیز ذہن پایا ہے. اگلے دن مجھے سٹیشن تک چھوڑا تو مجھے ایسا ہی لگا جیسے میں اپنی فیملی کے کسی فرد سے مل کے جا رہا ہوں اور اس میں کوئی شک بھی نہیں – میں اردو فیملی سے ہوں اور نوید بھی تو ہم تو رشتہ دار ہوے ناں جی
نوید بہت شکریہ اتنا وقت دینے کا




کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں