جمعرات، 22 مئی، 2014

تایا جی سے ملاقات اور گھر کی سیر





تایا جی اور تائ جی کی طرف سے اردو بزم کے ممبران کو عشائیہ

-----------------------------------------------------------------------
تایا جی (جاوید مرزا صاحب) اور تائ جی کی جانب سے انکے گھر میں' پرتکلف عشائیے کا اہتمام کیا گیا۔ اردو بزم کی جانب سے مجھ سمیت ، خرم امتیاز، سہیل اکبرصاحب ، توصیف احمد کشاف ، بلال صاحب اور جاوید اقبال صاحب نے شرکت کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تایا جی سے سلام لیتے ہی' اندازہ ہوگیا کہ بہت زندہ دل اور ہنس مکھ مزاج کے انسان ہیں ۔ اردو تو کمال کی بولتے ہی ہیں، پنجابی بھی خوبصورت لہجے میں بولتے ہیں۔ سیڑِھیاں چڑھ کر جب اوپر پہنچے تو تائ جی کو کچن میں کام کرتے دیکھا۔ تائ جی سے پیار لیا تو بہت فرحت بخش احساس ہوا ۔ کسی سے بھی ' پہلی ملاقات میں اجنبیت کا احساس ہوتا ہے مگر یہ پہلی ملاقات ہی بہت پرتکلف رنگ میں ہوئ۔ اللہ تائ جی کو ہمت دے ، بہت اچھے مزاج کی ہنس مکھ خاتون ہیں۔ تایا جی لطیفے سناتے ہیں جس میں' تائ جی کو جابر ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے ،مگر تائ کے چہرے کے نقوش سے اور باتوں سے' ایک فیصد بھی شائبہ نہیں ہوتا کہ ان کے مزاج میں تلخی کا کوئ پہلو ہو، مسکراتی رہتی ہیں ۔ تایا جی کا یہ ہتکھنڈا روایتی ہے کہ بیگمات کے بارے میں لطیفے سنا کر محفل میں قہقہوں کی بارش کی جاتی ہے ۔ جاوید مرزا صاحب نے گھر میں بہت سی منفرد اشیاء جمع کر رکھی ہیں ، جو کہ ان کے اعلی ذوق کی گواہی دے رہی ہیں ۔ فرعون کا مجسمہ جس میں یہ خاصیت ہے کہ بندہ جہاں سے بھی کھڑا ہو کر دیکھے لگتا ہے کہ فرعون آپ کو ہی دیکھ رہا ہے ۔ فرعون کا روشن دماغ ، ایسے برتن جن پر اللہ کے پیارے نام' خوبصورتی سے نقش ہوئے ہیں ، پیتل کے ظروف ، خوبصورت اور منفرد پینٹنگز ، ہر ملک کی کرنسی کے قدیم سکے، پیتل کی قدیم پراتیں ، تایا جی کے والد صاحب کی چھتری ، ان کے زیر استعمال ٹائپ رائٹر، مختلف اقسام کے قدیم کیمرے اور بہت کچھ۔۔۔۔۔۔ یہ سب کچھ دیکھ کر میں تو تایا جی کے اعلی ذوق کا قائل ہوگیاہوں ۔۔
تائ جی کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے ۔ ہر پکوان نہایت مزیدار اور لذیز تھا، کوفتے ، روسٹ مرغ، مختلف اقسام کی چٹنیاں ، پائے ، دہی بھرے ، دال ۔۔ پھر سویٹ ڈش میں گلاب جامن ۔۔ کیا ہی کہنے جی چاہتا تھا کہ انگلیاں تک چاٹ لی جائیں ۔ تائ جی کی ہمت ہے کہ اتنا سب کچھ اکیلے ہی تیار کیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اللہ رب العزت ان کو تتدرستی دے ۔۔۔۔ ۔
گروپ کے حوالے سے گپ شپ بھی ہوئ ، تمام اراکین کا اچھے الفاظ میں تذکرہ ہوا۔ بہت خوبصورت محفل رہی ۔ اٹھنے کو جی ہی نہیں کر رہا تھا کہ بہت زیادہ اپنائیت کا احساس ہو رہا تھا۔ خیر جانا تو تھا۔ الوداعی سلام اور پیار

لے کر رخصت ہوئے ۔۔۔۔۔۔۔ یہ حسین ملاقات ہمیشہ یاد رہے گی ۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔





جاوید مرزا کے گھر کی سیر

------------------------------
ھم زندگی میں وقت کو روک نہیں سکتے، عزیزوں دوستوں کو ہمیشہ اپنے ساتھ باندھ کر نہیں رکھ سکتے ، تو ھم انکی یادوں کے اثاثے کو تصویروں اور دیگر اشیا کی صورت سنبھال سنبھال رکھتے ھیں ____ لیکن پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ھے کہ وہ سنبھال رکھی اشیاء بذات خود ہماری زندگی کے قیمتی ترین اثاثے اور سرمائے کا روب دھار لیتی ھیں. اور پھر ان یادگار اشیاء سے جدائی ناگزیر ھو جاتی ھے. اک اک چیز یادوں کی انمول داستانیں سموئے ہوئے ھوتی ھے، لوگوں کی ظاھری دلچسپی پر انکو کو سرسری سا انٹروڈکشن دینے کے باوجود بھی، تشنگیِ اظہار کی کیفیت کے ساتھ یہ ھم ہی جانتے ہیں کہ ہماری اک اک یاد کی قیمت کیا ھے.

کچھ ایسی ہی کیفیات بھرا منظر جاوید مرزا صاحب اور شہناز مرزا کے ہاں دیکھنے کو ملا، جن کا گھر کسی طور بھی ایک یادگار میوزیم سے کم نہیں. انہوں نے تمام گھر کو اپنی زندگی کے یادگار واقعات، تصاویر اور اینٹیک اشیاء سے یوں سچا رکھا ھے کہ اب یہ خوبصورت یادیں اور من پسند کولیکشنز ان کی زندگی کے اثاثوں کی مانند انہیں حوصلہ اور طاقت بخشنے میں اہم کردار ادا کر رھی ھیں. شائد ان دونوں کی اچھی صحت کا راز ان کی خوبصورت اور مطمئن گزری زندگی کی تمامتر یادوں ہی میں پوشیدہ ھے.


دو بیڈروم ، ایک ڈرائنگ روم اور ایک باورچی خانے کے گھر کو انہوں نے کچھ یوں سجا رکھا ھے کہ کسی دیوار، کسی کونے میں شائد ہی کچھ انچ جگہ بچ پائی ھو. پانچ مرلے کے اس گھر کے بھرپور سفر کو گھنٹوں درکار ھیں، اور اس سفر میں جاوید صاحب کسی میوزیم کے گائیڈ کی طرح آپ کے ھمراہ رہتے ھیں اور اک اک شے کی تاریخ، تفصیل اور اس کے پیچھے چھپے واقعات اُن کو یوں ازبر ھیں جیسے کسی کے قدموں کو اپنے بچپن کے محلے کی گلیاں اور گھر کا راستہ یاد ھوں


ان تمام اشیاء کی موجودگی میں گھر کی صفائی اور اشیاء کی جھاڑ پونچھ بھی ایک اہم فریضہ ھے جو شہناز صاحبہ اپنے ہاتھوں سے کرتی ہیں . اور بلاشبہ ان نادر و نایاب اشیاء کی دیکھ بھال شائد کوئی ایسا تیسرا شخص کر بھی نہیں سکتا جس کے لئے ان عجائبات کی وقعت محض گھریلو سامان کی سی ھو.


میں نے موبائل کیمرے سے کچھ تصاویر لی ھیں جو آپ کے ساتھ اس پوسٹ کے کمنٹس میں بمع تفصیلات شیئر کرنا چاھوں گا.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس مصری فرعون کے مجسمے پر پہلے ہی زبانی کلامی بہت بحث ھو چکی .

یہ فرعوں کی ممی ایک زبردست نظری التباس (optical illusion) تھا ..... یہ مجسمہ کچھ اس طرح سے بنا ھے کہ کمرے میں موجود ہر کسی کو یہی محسوس ھوتا ھے کہ ٹی وی نیوز کاسٹر کی طرح یہ مجسمہ اسی کو دیکھ رھا ھے ... کمرے میں جہاں جہاں آپ جاتے ھیں مجسمہ آپ کو دیکھتا ھے .. اس کا چہرہ ھلتا ہوامحسوس ھوتا ھے، اس کی نگاہیں آپ کا تعاقب کرتی محسوس ھوتی ھیں .. لیکن درحقیقت مجسمے کا چہرہ ساکت ھوتا ھے یہ سب فریب نظر ھوتا ھے .
یہ اس مجسمے کا فرنٹ وئیو ھے۔



کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں