جمعرات، 22 مئی، 2014

فضا الرحمان سے ملاقات : از: نعمان لاشاری



Feza Rahman کے ساتھ ملاقات

رانا جیزی سے ملاقات کے بعد جب گھر جا رہے تھے تو رانا جیزی نے فضا الرحمن صاھب کا ذکر کیا کہ وہ بھی جدہ ہوتے ہیں ان سے ملا جاۓ. اس سے مجھے وہ تمام تند و تیز کمنٹس یاد آ گئے جن کے نیچے لکھا ہوتا تھا فضاالرحمن جدہ اور ساتھ میں ایک شعر بھی ہوتا تھا. میں نے کھا ضرور ملتے ہیں تو رانا صاھب نے کھا کہ ان کے ساتھ وقت طے کر کے بتایں گے اور اگلے دن ملاقات ہو سکے گی. اگلے دن رانا صاھب سے بات ہوئی تو شام پانچ بجے کا وقت طے ہوا. شام کو ٹھیک پانج بجے رانا صاھب کا میسج آیا کہ آ جاؤ چلیں اور ہم گاڑی میں بیٹھ کے فضا صاحب کے گھر کی طرف چل دئے. اس سے پہلے کہ مزید بات کروں ایک بات کہتا چلوں کہ ان کے بارے میں میری رائے کچھ ایسی تھی کہ یا تو خود پسند انسان ہیں جنھیں کسی کی شاعری پسند نہیں یا پھر بہت ہی نا خوش قسم کے انسان ہیں جو کبھی خوش نہیں ہوتے. شائد اسی لیے ضروری ہے کہ کسی کے بارے میں رائے قائم کرتے ہوے ہمیں جلد بازی نہیں کرنی چاہئے. خیر جب ہم ان کے گھر ولی بلڈنگ پہنچے تو تھوڑی دروازے پہ جا کے رانا صاحب نے کھا کہ دروازے پہ نیم پلیٹ تھی، شائد یہ گھر نہیں ہے. دوسری بلڈنگ میں گئے تو کہا کہ یہ تو بالکل بھی نہیں ہے. واپس اسی بلڈنگ میں اے اور میں نے کھا دستک دیں "پیر پتر نہیں دے گا تے گھر وی نہیں ان دے گا". یعنی کے کسی جگہ کی نشانی رکھنا کہ جہاں چنے والی ریھڑی کھڑی ہو گی وہاں سے سیدھے ہاتھ مڑنا ہے والی روایت ابھی بھی قائم ہے

دروازہ ایک انتہائی پیاری اور معصوم سی گڑیا نے کھولا جس کے پیچھے اس کا بھائی بھی چھپ کے کھڑا تھا. وہ ہمیں ایسے دیکھ رہی تھی جیسے کچھ چرا کے بھاگ جایں گے. رانا صاھب نے کھا کہ فضا صاھب گھر پہ ہیں؟ اس نے کھا کہ جی ہیں. کھا کہ ان سے کہو رانا جیزی آیا ہے. اس نے کھا دادا ابو نے کھا آپ آ جایں اور ڈرائنگ روم میں بیٹھیں. اور اس طرح ہم فضا صاھب کے انتہائی ترتیب اور سادگی سے مزین ڈرائنگ روم میں جا بیٹھے. تھوڑی دیر میں فضا صاھب تشریف لاۓ تو حیرت ہوئی مجھے کہ انتہای شفیق اور محبت والی ہستی لکھنو کا روایتی لباس زیب تن کیے گولڈن کڑھائی والے کھسے کے ساتھ ان پہنچے. بہت ہی خوشگوار حیرت ہوئی. انتہائی دھیمے لہجے میں گفتگو کرتے ہوے جب انہوں نے اپنے تندو تیز کمنٹس کا جواب دیا تو مجھے اس میں اس استاد کی فکرمندی کی جھلک نظر آئ جو اپنے شاگرد کی چھوٹی چھوٹی غلطی پڑ بھی اس نیت کے ساتھ ٹوکتا ہے کہ کہیں اس کا شاگرد اس پرفیکشن سے محروم نہ رہ جاۓ جس کا وہ حقدار ہو سکتا ہے. ہم میں سے ہر شخص اتنا پر خلوص نہیں ہوتا کہ کسی کی تصحیح اس نیت سے کرے کہ اگلا شخص اس ہنر میں کمال حاصل کرے اور فضا صاھب کچھ ایسے شخص ہی لگے مجھے. 
بہت سی گفتگو ہوئی، ادب، شاعری سے لے کے ذاتی زندگی تک، فضا صاھب نے بہت کچھ شیر کیا. ان کے انٹرویو کے لیے انہیں اصرار کیا کہ ان کا بطوراستاد تعارف بہت ضروری ہے گروپ پہ تاکہ لوگ سمجھ سکیں کتنے زبردست لوگ گروپ پہ موجود ہیں جن سے فیض حاصل کیا جا سکتا ہے. جلد ہی ان کا انٹرویو گروپ پے اے گا انشا الله. پھر چاۓ اور لوازمات نے گفتگو کا سلسلہ تھوڑی دیر کے لیے منقطع کیا اور زیتون سے سجے ہوے سینڈوچ، زبردست چارٹ اور میٹھے کے ساتھ جو کہ انتہائی خوبصورت برتنوں میں سجے ہوے تھے سے خوب انصاف کیا. تب ہی ان کے صاحبزادے سے بھی ملاقات ہوئی. بہت ہی مودب اور با نصیب بیٹے ہیں. اس کے بعد انہوں نے اپنی لائبریری کا مختصر جائزہ اور تعارف کروایا اور یہ جان کہ حیرت ہوئی کہ اب بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو کتاب کی محبت میں مبتلا ہیں اور انہوں نے پتہ نہیں کہاں کہاں اور کس لائبریری سے نادر کتب کی کاپی بنوا کے رکھی ہے اور اس کا مطالعہ بھی کرتے ہیں. ان کے سناۓ ہوے اشعار اب بھی خوشگوار احساس دیتے ہیں. جیسے

کاش بےاختیار تجھ سے ملوں
کاش یہ اختیار تجھ سے ملے
یہ محفل مزید جاری رہتی لیکن اماں جان کھانے پہ میرا انتظار کر رہی تھیں تو مجھے اجازت لینی پڑی. اصل میں کہیں بھی میں اور امی جان ایک ساتھ ہوں تو کھانا ساتھ ہی کھاتے ہیں اور وہ میرا انتظار کرتی ہیں. دوبارہ ملاقات کا کہ کے اجازت لی اور رانا صاھب سے گپ شپ کرتے ہوے انہوں نے میرے گھر ڈراپ کر دیا.



1 تبصرہ: